عمران خان کے سامنے امکانات اور مسائل

عمران خان کے سامنے امکانات اور مسائل

ایک غیر معمولی پریس کانفرنس میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے آخر کارریکارڈ درست کردیا:


1۔  پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کے لیے کوئی امریکی سازش نہیں ہوئی۔ چناں چہ پاکستان کے امریکہ میں سفارت کارکے ”خط“ جس میں کسی سازش کا تاثر تھا، پر نیشنل سیکورٹی کمیٹی کا ردعمل معمول کے ”ڈیمارش‘‘ سے زیادہ کچھ نہ تھا۔


2۔  امریکیوں نے پاکستان سے کبھی فوجی اڈے نہیں مانگے، اس لیے ”ا یبسلوٹلی ناٹ“کی تو نوبت ہی نہیں آئی۔


3۔  عمران خان، نہ کہ فوجی قیادت، نے سیاسی آپشنز کی بات کی تھی تاکہ اس صورت حال سے نکلا جاسکے۔


4۔  چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ مدت ملازمت میں توسیع نہیں لیں گے، اور اگر توسیع کی پیش کش کی گئی تو قبول کرنے سے انکار کردیں گے۔


5۔  فوج غیر سیاسی رہنا چاہتی ہے۔ یہ آئینی عمل کی حمایت کرتی ہے اور اب کبھی مارشل لا نہیں لگایا جائے گا۔


6۔  فوج کے خلاف سوشل میڈیا پر چلنے والی مہم ناقابل قبول ہے،ا ور اس کے نتائج ہوں گے۔


7۔  اداروں میں تقسیم اور ٹکراؤ کے بیج بونے کی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔


اس ”غیر معمولی“ ردعمل سے پہلے بھی بہت سے غیر معمولی واقعات پیش آتے ہیں۔ اسٹبلشمنٹ کے سہارے کے بغیر عمران خان کی حکومت گر گئی کیوں کہ اتحادیوں نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔ وہ جان چکے تھے کہ تحریک انصاف اگلا الیکشن ہارنے جارہی ہے۔


لیکن باوقار طریقے سے منصب سے الگ ہونے کی بجائے عمران خان نے آئین اور قانون سے انحراف کیا۔ انھیں گھر بھیجنے کے لیے سپریم کورٹ کو آدھی رات کو حرکت میں آنا پڑا۔ اب عمران خان اپنی انتخابی مہم چلارہے ہیں۔ وہ ”سازش“ کی تھیوری کا راگ الاپتے ہوئے اپنے حامیوں کو فوجی قیادت پر حملے کرنے کے لیے اکسا رہے ہیں۔ عمران خان سمجھتے ہیں کہ اُنھیں اسٹبلشمنٹ نے چلتا کیا ہے۔


اس صورت حال پر قدرتی طور پر عمران خان کے مخالفین خوش ہیں۔ وہ اسٹبلشمنٹ پر جتنے حملے کریں گے، ان کی مستقبل قریب میں ”واپسی“ کے امکانات اتنے ہی کم ہوتے جائیں گے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اپنے ہائبرڈ تجربے کی ناکامی نے اسٹبلشمنٹ کو شدید زک پہنچائی ہے۔ یہ محاورۃًاپنے زخم چاٹ رہی ہے۔ اس لیے امکان ہے کہ یہ سیاست کو اس کے آئینی راستے پر چلنے دی گی تاوقتیکہ سیاست دان اس میں کہیں جمود پید اکردیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان فوجی مداخلت چاہتے ہیں تاکہ پی ڈی ایم کی حکومت مختصر مدت کی ہو۔ اس دوران کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ عمران خا ن کا سیاسی دور تمام ہوا؟


نہیں۔ وہ ابھی بھی اپنے ”بیانیے“ سے جذباتی ہجوم جمع کررہے ہیں۔ نعرہ ہے کہ ”میں مسٹر کلین ہوں۔ اپوزیشن والے چور اور ڈاکو ہیں۔ امریکہ اور مغربی طاقتیں میرے خلاف ہیں کیوں کہ میں اسلاموفوبیا کی مخالفت کرتا ہوں اور پاکستان کو ایک آزاد اور خود مختار ملک اور پیغمبر اسلام ﷺ کے دور کی ریاست مدینہ بنانا چاہتا ہوں۔“


لیکن اگر اُن کا بیانیہ عملی پرکھ میں غلط ہے تو اتنے لوگ کیوں ابھی تک اس پر یقین کررہے ہیں؟


تحریک انصاف کے زیادہ تر حامی جنرل ضیا الحق کی ”فکری اولاد“ ہیں۔ ان کی کلوننگ اسلامی قوم پرستی کی نرسریوں میں ہوئی ہے۔  وہ نسبتاً نوجوان، پڑھے لکھے اوردرمیانی شہری طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ سازش کی تھیوریوں پرآسانی سے یقین کرلیتے ہیں کیوں کہ ان کی انٹر نیٹ تک رسائی ہے جہاں ایسے تصورات جنگل کی آگ کی طرح پھیلتے ہیں۔


چوں کہ فوج اور بیوروکریسی اسے طبقے سے زیادہ تر بھرتیاں کرتی ہیں، اس لیے یہ بات قابل فہم ہے کہ ”سول ملٹری خاندان“ (حاضر سروس اور ریٹائرڈ)اس بیانیے کے پرزور حامی ہیں۔ سمندر پار مقیم پاکستانی بھی ایسی تھیوریوں کو آسانی سے قبول کرلیتے ہیں کیوں کہ ایک تو اُنھیں اپنی روز مرہ کی زندگی میں اسلامو فوبیا اور نسل پرستی سے واسطہ پڑتا ہے، اور دوسرے ان کی منقسم شناخت سیکولر ممالک،جہاں وہ رہتے ہیں، میں اسلامی رسومات کے احترام اور مساوات کا تقاضا کرتی ہے۔ سوشل میڈیا گروپس کی پھیلی ہوئی دنیا اورٹوئیٹر کی وسیع سپیس میں ”ہم خیال خان“ کی اندھی پرستش کی فضا گہری ہوتی ہے۔ یہاں تعصبات سے سوچ کے سوتے پھوٹتے ہیں۔


لیکن اس پیش رفت کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ بہت سے لوگ ایسی اکتا دینے والی ”مورثی“ جمہوریت کو مسترد کرتے ہیں جو اچھے نتائج نہیں دے پاتی۔ پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن میں وہی جانے پہچانے چہرے اور انہی ازکارفتہ پالیسیوں کا تسلسل ہے جو تین عشرے پہلے تھیں۔


ہم اس منظر نامے کو پوری دنیا میں دیکھ سکتے ہیں۔ خاندانی اور مورثی سیاست دم توڑ رہی ہے اور عوامی مقبولیت اورجذباتی پرستش نوجوان ذہنو ں کو اپنی گرفت میں لے رہی ہے۔ وہ نوجوان جو بے چین اور مایوس ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ احساس محرومی اور عدم تحفظ کا شکار اور مبہم تصورات رکھنے والے ”قابل فخر“ پاکستانی ملک اور بیرون ملک عمران خان کے گرد جمع ہیں کیوں کہ وہ ”تبدیلی“ کا سودا بیچتے ہیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تبدیلی کس قسم ہے؟ وہ دقیانوسی سماجی اور سیاسی ڈھانچے سے نکل کر ”نئے پاکستان“ میں رہنا چاہتے ہیں،چاہے اس کی کتنی ہی قیمت کیوں نہ ہو۔


تو کیا اس کا مطلب ہے کہ اگر جلد ہی تازہ انتخابات کا انعقاد ہوتا ہے تو عمران خان کی تحریک انصاف جیت جائے گی؟


نہیں۔ ایک اور پاکستان ہے جس کے مفادات روایتی رہنماؤں اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، خاص طور پر دیہی علاقوں اور چھوٹے شہروں میں، جہاں تبدیلی کے جذبات کی ہلچل ابھی تک بہت ماندہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن ابھی تک مرکزی دھارے کی جماعتیں ہیں کیوں کہ اُن کی تنظیمی، سماجی اور سیاسی جڑیں بہت گہری ہیں اور اُنھوں نے اپنے اپنے دور حکومت میں ملک کے وسیع وعریض علاقوں کے مفاد کا خیال رکھا ہے۔ اس سے فرق پڑے گاکیوں کہ جنھوں نے 2018  ء میں عمران خان کو ووٹ دیے تھے، وہ اب اسے ووٹ نہیں دیں گے کیوں کہ سابق حکومت کی پیدا کردی معاشی مشکلات نے ان لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دی تھی، یا وہ آہستہ آہستہ عمران خان کے بیانیے کے خطرناک نتائج اور عواقب سے آگاہ ہوتے جارہے ہیں۔ اس لیے عمران خان کا سمٹتا ہوا ووٹ بنک ا ن کے سر پر فتح کا تاج نہیں رکھ پائے گا۔


اس لیے ان کی موجودہ حکمت عملی کی سمجھ آتی ہے۔ وہ موجودہ مختلف جماعتوں پر مشتمل حکومت کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں تاکہ حکومت عوام کے حق میں کوئی ایجنڈا نہ پیش کر سکے۔ ان کی ریلیوں کا مقصد اپنے حامیوں کو حوصلہ افزائی کرنا ہے تاکہ وہ حکومت جانے سے مایوس نہ ہوں۔ اپنے خلاف ثبوت ہونے کے باوجود اپنے ''بیانیے'' پر قائم رہنے پر اصرارکے پیچھے یہ منطق کارفرما ہے کہ اگر جھوٹ کو سو بار دہرایا جائے تو وہ ”سچ“ بن جاتا ہے۔


لیکن اس کامقابلہ کرنے والی سچائیوں کی اہمیت اور طاقت کو کم نہیں سمجھنا چاہئے۔ جلد ہی ان کی بدعنوانی اور پارٹی کی بداعمالیوں کے بارے میں طاقتور سچائیوں کا سیلاب آئے گا۔ توشہ خانے کی چوریاں بہت معمولی سی ”حرکت“ دکھائی دیں گی جب اگلے ماہ غیر ملکی عطیات میں اربوں کے غبن کے کیس کا فیصلہ سنایا جائے گا۔ اور صرف یہی نہیں، اس کے بعدرنگ روڈ پنڈی، راوی ٹاؤن، مالم جبہ، کورونا فنڈ، بی آر ٹی پشاور، خاتون اول کے خاندان اور دوستوں کی پنجاب میں کک بیکس اور کمیشن وغیرہ پر جو کریک ڈاؤن ہوگا، اس کی تمازت اور سختی کا تجربہ ان کی جماعت کے قائدین، منتظمین اور پراپیگنڈہ کرنے والوں کو اپنی مختصر سیاسی زندگی میں کبھی نہیں ہوا ہوگا،خاص طور پر جب وہ پہلے اسٹبلشمنٹ کی محفوظ چھتری تلے حریفوں کی پگڑیاں اچھالتے تھے۔


درحقیقت، عمران خان کے فوری انتخابات کے مطالبے کی بنیادی وجہ یہ خوف ہے کہ ان کی حمایت کی بنیاد اس وقت ختم ہو جائے گی جب وقت اور سامنے آنے والی سچائی کا سورج اس جذباتی اندھیرے کا پردہ چاک کردے گا۔


پی ڈی ایم کی قیادت میں بننے والی موجودہ حکومت دو مخالف چیلنجز کی زد میں ہے۔ اگر اس نے قبل از وقت انتخابات کرادیے تو اسے عمران خان کے پیدا کردہ جذبات جھکڑکا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگر یہ انتخابات میں تاخیر کرتی ہے لیکن کارکردگی دکھانے میں ناکام رہتی تو اس کی ساکھ مجروع ہوگی۔ اس سے عمران خان کے امکانات روشن ہوجائیں گے۔ اس صورت میں اسٹبلشمنٹ دوبارہ مبادیات کی طرف جاتے ہوئے دائروں میں قید پاکستان کے سیاسی سفر کو از سرنو شروع کرنے پر مجبور ہوجائے گی۔