آخری راؤنڈ

آخری راؤنڈ

ایک موقر روزنامے نے حالیہ ضمنی انتخابات میں عمران خان کی چھے نشستوں پر کامیابی کو ”چونکا دینے والی فتح“ قرار دیا۔ ایسا ہر گز نہیں ہے۔ شواہد بتاتے ہیں کہ یہ نتیجہ موقع تھا۔ پاکستان مسلم لیگ ن نے انتخابات کے لیے سنجیدگی سے جان نہیں ماری تھی کیوں کہ اس کا خیال تھا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کئی ایک وجوہ کی بنا پر انتخابات ملتوی کردے گا۔ یقینا الیکشن کمیشن آف پاکستان کا حتمی فیصلہ طے شدہ تاریخ سے چند دن پہلے آیا۔ اس وقت تک مریم نواز انتخابی مہم چلانے اور بڑے بڑے عوامی جلسے کی کرنے کی بجائے ملک سے جانے کا منصوبہ بنا چکی تھیں۔ اس سے پہلے حالیہ مہینوں میں انھوں نے بہت کامیاب جلسے کیے تھے۔ مسلم لیگ ن نے یہ بھی سوچا ہوگا کہ ان انتخابات پروقت،  توانائی اور مالی وسائل ضائع کرنے کا کیا فائدہ جب ان کے نتائج پارلیمنٹ میں نمبروں کے کھیل کو متاثر نہیں کرنے جارہے۔


یہ حقیقت بھی سب پر واضح تھی کہ عمران خان یہ نشستیں اپنے پاس نہیں رکھیں گے اور ان پر ایک بار پھر انتخابات کرانے ہوں گے۔ خیبرپختوانخواہ میں تحریک انصاف کی حکومت کے طرز عمل کا بھی پتہ تھا کہ وہ عمران خان کو جمعیت علمائے اسلام اورعوامی نیشنل پارٹی کے امیدواروں کے مقابلے میں سہارا دے گی۔ یہ انتخابی مقابلہ اس سے قبل قومی اسمبلی کی بیس نشستوں پر ہونے والے مقابلے سے مختلف تھا۔ اُس وقت تحریک انصاف نے بھرپور کامیابی حاصل کرلی تھی کیوں کہ پاکستان مسلم لیگ ن ایک تو غلط امیدواروں کے چناؤ کی وجہ سے انتشار کا شکار تھی اور دوسرے آئی ایم ایف کے سخت پروگرام کی وجہ سے رائے دہندگان کی ناراض تھے کیوں کہ وہ معاشی مشکلات کے گرداب میں تھے۔


اسی طرح توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو نااہل کرنے کے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلے کے بعد ”بپھرے ہوئے عوام کے احتجاجی مظاہروں“ کی چیخی ہوئی شہ سرخیاں بھی غلط بیانی کے سوا اور کچھ نہیں۔ ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔ فیصلے کے بعد تحریک انصاف کے چند سو حامی پولیس سے الجھے، اور پھر الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے چند ایک گھنٹوں کے لیے دھرنا دیا۔ ملک بھر میں کچھ مقامات پر چند درجن احتجاجی مظاہرین نے ٹائرجلاکر علامتی احتجاج کا اظہار کیا۔ ہاں، کراچی میں ایک ہزار کے قریب مظاہرین نے جمع ہو کر مختلف اداروں کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرتے ہوئے نعرے بازی کی۔


تاہم وسیع پیمانے پر احتجاج نہ ہونے کی وجہ یقینی طور پر عمران خان کا یہ فیصلہ ہوگا کہ اس رات احتجاج کرنے کی بجائے ان کے حامی اپنی توانائیاں لانگ مارچ کے لیے بچا کررکھیں۔ وہ خود بنی گالا چلے گئے تاکہ اپنے مشیروں کے ساتھ آگے بڑھنے کی حکمت عملی وضع کرسکیں، حالانکہ اُنھوں نے تسلیم کیا ہے کہ وہ اپنے خلاف آنے والے فیصلے سے پہلے ہی آگاہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ الیکشن کمیشن آف پاکستان اور چیف الیکشن کمشنر پر مسلسل حملے کررہے تھے۔ اُنھیں یہ بھی یقین ہے کہ اس فیصلے پر اعلیٰ عدلیہ سے فوری طور پر ”حکم امتناع“ مل جائے گا، لہذا اس فیصلے سے اُن کے عزائم کو اسی طرح کوئی خطرہ نہیں جس طرح حالیہ ضمنی انتخابات جیتنے کا اُنھیں کوئی فائدہ نہیں ہوا۔


یہ ”مثبت“ یا ”منفی“ پیش رفت اپنی جگہ، لیکن اصل سوال اپنی جگہ پر موجود ہے۔ کیا عمران خان لانگ مارچ کریں گے یا نہیں؟ وہ اس کی دھمکی بھی دیتے آئے ہیں اور پھر اسے ملتوی بھی کردیتے ہیں۔ یہ سلسلہ کچھ عرصے سے جاری ہے۔ ایک طرف وہ اعتراف کرتے ہیں کہ صدر عارف علوی ان کی طرف اسٹبلشمنٹ اور پی ڈی ایم کے ساتھ مذاکرات کررہے ہیں تاکہ اگلے آرمی چیف کی نامزدگی پر اتفاق رائے حاصل کیا جاسکے، اورعام انتخابات کی طے شدہ تاریخ سے پہلے کوئی قابل قبول تاریخ طے کی جاسکے۔ اس لیے لانگ مارچ کرتے ہوئے ایسا بحران نہیں پیدا کرنا چاہیے کہ بات چیت کا عمل تو سبوتاژ ہوجائے لیکن حکومت نہ گرے۔ دوسری طرف وہ سوچتے ہیں کہ جب تک اسلام آباد میں وسیع عوامی احتجاج سے دباؤ نہیں بڑھاتے، وہ پی ڈی ایم حکومت اور اسٹبلشمنٹ کو کسی بات پر مجبور نہیں کرسکتے۔ اس سوچ کے ساتھ مسلہئ یہ ہے کہ پی ڈی ایم اور اسٹبلشمنٹ کی قیادت نے اپنے قدم مضبوطی سے جما رکھے ہیں۔ اُن کا عمران خان کے مطالبات من و عن تسلیم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ لیکن اگر وہ لانگ مارچ کا حتمی فیصلہ کرلیتے ہیں تو تشدد خارج ازامکان نہیں۔اس کے نتیجے میں حکومت کی تبدیلی عمل میں آسکتی ہے۔ غالباً ایسا فوجی مداخلت کے نتیجے ہوگا۔ لیکن اس سے فوجی حکومت قائم ہوگی نہ کہ عمران خان کی۔ نیز اس کے بعد سیاسی قائدین اور جماعتوں کو ناپسندیدہ نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔


اہم بات یہ ہے کہ جس روز چیف الیکشن کمشنر نے عمران خان کے خلاف فیصلہ سنایا، اُسی روز آرمی چیف نے اعلان کیا کہ وہ پانچ ہفتوں بعد ریٹائر ہوجائیں گے۔ لیکن جو کچھ چیف آف آرمی سٹاف نے (آف دی ریکارڈ) کہا اس سے لگتا ہے کہ وہ اور ان کے ساتھی عمران خان سے تنگ آچکے ہیں۔ تو کیا کوئی اُنھیں مورد الزام ٹھہرا سکتا ہے؟ اُنھوں نے عمران خان پر ہر حوالے سے اندھا اعتماد کرلیا تھا۔ اس کی وجہ سے اُن پر بے لاگ تنقید بھی ہوئی۔ لیکن سازش کی تھیوریاں گھڑنے والے روایتی بقراط خطرے کی بو سونگھنا شرو ع ہوجائیں گے اگر نئے آرمی چیف کو فوری طور پر نامزد نہیں کیا جاتا جب کہ عمران خان لانگ مارچ کے ساتھ اسلام آباد پر چڑھائی کردیتے ہیں۔


اب مقابلہ آخری راؤنڈ میں داخل ہوچکا۔ اسٹبلشمنٹ، پی ڈی ایم اور عدلیہ، سب عمران خان کو پارلیمنٹ کے فورم پر اپنے مسائل  حل کرنے کی تاکید کررہے ہیں۔ کوئی بھی معیشت اور نظام کو عدم استحکام سے دوچار نہیں کرنا چاہتاجب کہ ملک کو اقتصادی دیوالیہ پن اور مسلسل عالمی جانچ کا سامنا ہے۔ عمران خان کی شہری درمیانی طبقے میں مقبولیت اُن کے سیاسی مستقبل کو یقینی بناتی ہے۔ لیکن وہ ہٹ دھرمی سے آئینی جمہوریت کے وہ اصول قبول کرنے سے انکار ی ہیں جن پر دیگر سیاسی کھلاڑیوں کا اتفاق ہے۔ یہ ر ویہ ایک جماعت کی مطلق العنانی کی راہ ہموار کرتا ہے، چاہے وہ حکمران سولین ہو یا فوجی آمر۔ ماضی میں بھی اس نسخے کو بار ہا آزمایا گیا اور ہر بار یہ ناکام ہوا۔ مستقبل میں بھی یہ کام نہیں دے گا۔